قُلْتُ لَمَّا غَابَ عَنِّي
میں نے کہا جب وہ مجھ سے اوجھل ہوا
Ur
Ur
قُلْتُ لَمَّا غَابَ عَنِّي
نُورُ مَرَاكَ الْمَصُون
میں نے کہا جب مجھ سے روپوش ہوا
آپ کے پردہ نشین حسن کا نور
شَفَّنِي وَاللَّهِ سُقْمٌ
فِيهِ قَدْ ذُقْتُ الْمَنُونَ
بخدا! مجھے ایسی بیماری نے نڈھال کر دیا
جس میں میں نے موت کا مزہ چکھ لیا
وَعُيُونِي مِنْ نَحِيبٍ
جَارِيَاتٌ كَالْعُيُون
اور میری آنکھیں گریہ و زاری کی شدت سے
رواں چشموں کی مانند بہہ رہی ہیں
وَجُفُونِي مَا كَفَاهَا
مَا جَرَى حَتَّى جَفُون
میری پلکوں کو ان بہتے آنسوؤں سے قرار نہ آیا
یہاں تک کہ وہ خود ہی خشک ہو گئیں
هَامَ قَلْبِي زَادَ وَجْدِي
فَمَتَى وَصْلَكْ يَكُونُ
میرا دل سرگرداں ہے اور تڑپ بڑھ گئی ہے
پس اب ہماری ملاقات کب ہوگی؟
غَابَ عَنْ عَيْنِي ضِيَاهَا
يَا قَمَرَ دَارِي الْعُيُون
میری آنکھوں سے ان کا نور رخصت ہو گیا
اے میرے چاند! ان آنکھوں کو تسکین عطا کر