صَلِّ يَا سَلَامْ عَلَى الْوَسِيلَةْ
اے سلام! درود بھیجئے وسیلہ پر
Ur
صَلِّ يَا سَلَامْ عَلَى الْوَسِيلَةْ
وَشَمْسِ الْأَنَامْ طَلْعَةِ لَيْلَى
اے سلام! درود بھیجئے اس وسیلہِ (جلیلہ) پر
جو تمام مخلوق کا آفتاب اور لیلیٰ کا رخِ زیبا ہے
يَا سَاقِي الْعُشَّاقْ أَمْلَ الْكُؤُوسَا
مِنْ خَمْرِ الْأَذْوَاقْ يُحْيِي النُّفُوسَا
اے عشاق کے ساقی! ان پیالوں کو بھر دے
ذوق کی اس مے سے جو روحوں کو حیاتِ نو بخشتی ہے
حَضْرَةُ الْإطْلَاقْ أَبْدَتْ شُمُوسَا
مَحَتِ الرَّوَاقْ عَنْ وَجْهِ لَيْلَى
بارگاہِ اطلاق سے ایسے سورج طلوع ہوئے
جنہوں نے رخِ لیلیٰ سے دوری کے پردے مٹا دیے
صَلِّ يَا سَلَامْ عَلَى الْوَسِيلَةْ
وَشَمْسِ الْأَنَامْ طَلْعَةِ لَيْلَى
اے سلام! درود بھیجئے اس وسیلہِ (جلیلہ) پر
جو تمام مخلوق کا آفتاب اور لیلیٰ کا رخِ زیبا ہے
مُبْتَغَى الْعُشَّاقْ حِينَ تَجَلَّى
فِي ذَاتِ الْخَلَّاقْ اَلْمَوْلَى جَلَّ
عشاق کی تمنا اس وقت جلوہ گر ہوئی
جب مولیٰ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس میں ظہور ہوا
مِنْ بَحْرِ الْإِطْلَاقْ حِينَ تَجَلَّى
بِكُلِّ رَوْنَقْ جَمَالُ لَيْلَى
بحرِ اطلاق سے جب جلوہ فرمائی ہوئی
تو لیلیٰ کا جمال ہر طرح کی رونق کے ساتھ ظاہر ہوا
صَلِّ يَا سَلَامْ عَلَى الْوَسِيلَةْ
وَشَمْسِ الْأَنَامْ طَلْعَةِ لَيْلَى
اے سلام! درود بھیجئے اس وسیلہِ (جلیلہ) پر
جو تمام مخلوق کا آفتاب اور لیلیٰ کا رخِ زیبا ہے
صَاحَتِ الْأَطْيَارْ فَوْقَ الْمَنَابِرْ
وَفَاحَ الْأَزْهَارْ وَالرَّوْضُ عَاطِرْ
منبروں پر پرندے نغمہ سرا ہوئے
پھول مہک اٹھے اور سارا چمن معطر ہو گیا
رَنَّتِ الْأَوْتَارْ وَالْحِبُّ حَاضِرْ
غَنِّ يَا خَمَّارْ بِحُسْنِ لَيْلَى
ساز چِھڑ گئے اور محبوب جلوہ افروز ہے
اے ساقی! لیلیٰ کے حسن کے نغمے چھیڑ
صَلِّ يَا سَلَامْ عَلَى الْوَسِيلَةْ
وَشَمْسِ الْأَنَامْ طَلْعَةِ لَيْلَى
اے سلام! درود بھیجئے اس وسیلہِ (جلیلہ) پر
جو تمام مخلوق کا آفتاب اور لیلیٰ کا رخِ زیبا ہے
يَا عَيْنَ الْعُيُونْ ظَهَرْتَ جَهْرَا
بِجَمْعِ الْفُنُونْ كَأْسًا وَخَمْرَا
اے حقیقت کی آنکھ! تو نے اعلانیہ ظہور کیا
پیالے اور مے کی ہر صورت اور علامت میں
زَالَتِ الشُّجُونْ طَابَتِ الْحَضْرَةْ
بِالسِّرِّ الْمَكْنُونْ مِنْ كَنْزِ لَيْلَى
تمام غم دور ہوئے اور یہ محفل پُرکیف ہو گئی
لیلیٰ کے خزانے کے اس پوشیدہ راز کی بدولت
صَلِّ يَا سَلَامْ عَلَى الْوَسِيلَةْ
وَشَمْسِ الْأَنَامْ طَلْعَةِ لَيْلَى
اے سلام! درود بھیجئے اس وسیلہِ (جلیلہ) پر
جو تمام مخلوق کا آفتاب اور لیلیٰ کا رخِ زیبا ہے
اِبْنُ يَلِّسْ هَامْ لَمَّا سُقِيَا
مِنْ خَمْرِ الْأَذْوَاقْ فَانِي بَاقِيَا
ابنِ یلس وجد میں آ گیا جب اسے پلائی گئی
ذوق کی وہ مے جس میں فنا بھی ہے اور بقا بھی
عَلَيْكَ السَّلَامْ خَيْرَ الْبَرِيَّةْ
مَا سُقِيَ الْمُدَامْ فِي حَيِّ لَيْلى
آپ پر سلام ہو اے بہترینِ خلائق!
جب تک دیارِ لیلیٰ میں مے نوشی کا دور چلتا رہے