عَلَى الْعَقِيقِ اجْتَمَعْنَا
عقیق پر ہم اکٹھے ہوئے
Ur
عَلَى الْعَقِيقِ اجْتَمَعْنَا
نَحْنُ وَسُودُ الْعُيُونِ
مقامِ عقیق پر ہم یکجا ہوئے
ہم اور وہ سیاہ چشم محبوب
مَا ظَنِّ مَجْنُونَ لَيْلَى
قَدْ جُنَّ بَعْضَ الْجُنُونِ
مجنونِ لیلیٰ کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے؟
وہ تو محض تھوڑی سی دیوانگی میں مبتلا تھا
فَيَا عُيُوني عَيَوْنِي
وَيَا جُفُونِي جَفَوْنِي
اے میری آنکھوں، تم نے مجھے نڈھال کر دیا
اور اے میری پلکوں، تم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا
وَيَا قُلَيْبِي تَصَبَّرْ
عَلَى الَّذِي فَارَقُونِي
اے میرے ننھے دل، ذرا صبر سے کام لے
ان کی جدائی پر جو مجھ سے بچھڑ گئے
فَارَقْتُهُمْ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ
صُبْحَ الثَّلَاثَا وَاحِشُونِي
پیر کے دن میں ان سے جدا ہوا
اور منگل کی صبح تک ان کی یاد نے مجھے بے حال کر دیا
هُمْ سَادَةٌ خَلَّفُونِي
أَبْكِي دَماً مِنْ عُيُونِي
وہ عالی مرتبہ آقا ہیں جو مجھے پیچھے چھوڑ گئے
میں اپنی آنکھوں سے خون کے آنسو روتا ہوں
بَكَيْتُ حَتَّى رَثَانِي
الْطَّيْرُ فَوْقَ الْغُصُونِ
میں اس قدر رویا کہ شاخوں پر بیٹھے
پرندوں کو بھی مجھ پر ترس آنے لگا
بِاللهِ إِنْ مُتُّ شَوْقاً
بِأَدْمُعِي غَسِّلُونِي
خدا کی قسم! اگر میں شوقِ وصال میں مر جاؤں
تو مجھے میرے ہی آنسوؤں سے غسل دینا
نُوحُوا عَلَيَّ وَقُولُوا
هَذَا قَتِيلُ العُيُونِ
مجھ پر بین کرو اور یہ کہو
کہ یہ ان قاتل آنکھوں کا مارا ہوا ہے
مَا زِلْتُ حَوْلَ الْمَطَايَا
أَقُولُ بِاللهِ احْمِلُونِي
میں سواریوں کے گرد مسلسل یہ التجائیں کرتا رہا
کہ خدا کے واسطے، مجھے بھی ساتھ لے چلو
إِلَى مَنَازِلِ قَوْمِي
سَارُوا وَمَا وَدَّعُونِي
میرے اپنوں کی بستیوں کی جانب
وہ رخصت ہو گئے اور مجھے الوداع تک نہ کہا
رُوحْ يَا رَسُولِي إِلَيْهِمْ
سِرْعاً وَقَبِّلْ يَدَيْهِمْ
اے میرے قاصد! ان کی طرف جا
تیزی سے جا کر ان کے ہاتھوں کو بوسہ دے
وَاقْرَأْ سَلَامِي عَلَيْهِمْ
لَعَلَّهُمْ يَقْبَلُونِي
ان تک میرا سلام پہنچا دے
شاید وہ مجھے اپنی بارگاہ میں قبول کر لیں
جَانِي الْرَّسُول وَهُوَ يَضْحَكْ
وَقَالَ أَبْشِرْ بِصُلْحِكْ
قاصد مسکراتا ہوا میرے پاس آیا
اور کہا: خوش ہو جاؤ کہ تمہاری صلح ہو گئی ہے
وَحَيَاةِ عَيْشِكَ وَمِلْحِكْ
هُمْ بِالوِصَالِ وَاعَدُونِي
تمہاری رفاقت اور نمک کی قسم
انہوں نے مجھ سے وصال کا وعدہ کر لیا ہے