صَفَتِ النَّظْرَهْ
نظر صاف ہو گئی
Ur
صَفَتِ النَّظْرَهْ طَابَتِ الْحَضْرَةْ
جَاءَتِ الْبُشْرَى لِأَهْل اللهِ
روشن ہوئی نظر اور محفل خوشگوار ہوئی
اہلِ خدا کے لیے بشارت آئی ہے
قَامُوْا سُكَارَى لِذِي الْبِشَارَه
جَعْلَوْا عِمَارَهْ شُكْراً لِلّهِ
وہ بشارت سن کر مستانہ وار کھڑے ہوئے
اور شکرِ خدا میں ذکر کی محفل سجا دی
أَيُّهَا الْحَاضِرْ اُذْكُرْ وَذَاكِرْ
إِيَّاكَ تُنْكِرْ حَالَ أَهْلِ اللهِ
اے حاضرِ محفل! ذکر کر اور یاد دلا
خبردار، اہلِ خدا کے حال کا انکار نہ کرنا
فَسَلِّمْ لَهُمْ فِيمَا عَرَاهُمْ
وَاعْلَمْ أَنَّهُمْ غَابُوْا فِي اللهِ
ان پر جو کیفیت طاری ہو اس میں سرِ تسلیم خم کر
اور جان لے کہ وہ اللہ کی ذات میں فنا ہو چکے ہیں
فَالْوَجْدُ بِهِمْ دَاعِيْ يَدْعِيْهِمْ
يَطْرَأْ عَلَيْهِمْ فِيْ ذِكْرِ اللهِ
پس وجد انہیں پکارنے والا ایک داعی ہے
جو ذکرِ الہی کے دوران ان پر وارد ہوتا ہے
وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَتَوَاجَدْ
قَصْداً يَتَعَرَّضْ لِفَضْلِ اللهِ
اور جسے وجد نصیب نہ ہو وہ وجد کی صورت بنائے
تاکہ دیدہ و دانستہ فضلِ الہی کا طلبگار بنے
هَكَذَا قَالُوْا وَلِذَا مَالَوْا
وَلَقَدْ غَالُوْا فِي ذِكْرِ اللهِ
یہی انہوں نے کہا اور اسی لیے وہ جھوم اٹھے
اور ذکرِ الہی میں مستانہ وار حد سے گزر گئے
حَتَّى قَدْ ظَنَّا مَنْ لَيْسَ مِنَّا
أَنَّا جُنِنَّا بِذِكْرِاللهِ
یہاں تک کہ جو ہم میں سے نہیں، انہوں نے گمان کیا
کہ ہم ذکرِ الہی کے سبب دیوانے ہو گئے ہیں
هَنِيْئاً لَنَا ثُمَّ بُشْرَانَا
إِنْ كَانَ لَنَا حُمْقٌ فِي اللهِ
ہمیں مبارک ہو اور پھر مژدہ ہو ہمیں
اگر ہماری یہ دیوانگی اللہ کی راہ میں ہے