يَـا سَـيِّـدَ الرُّسْـلِ غَـارَة
اے سردارِ رسل، حفاظت عطا فرما
Ur
الله الله يَا الله الله الله يَا الله
يَـا رَبِّ صَـلِّ عَـلَـى الـمُخْتَارِ خَيْرِ العَبِيدْ
اللہ اللہ یا اللہ، اللہ اللہ یا اللہ
اے رب! درود بھیج ان برگزیدہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر جو تمام بندوں میں سب سے بہتر ہیں
يَـا سَـيِّـدَ الرُّسْـلِ غَـارَةْ لِأَقَـلِّ الـعَـبِـيـدْ
بِـوَصْلِ مَـحْبُوبِ قَـلْبِي يَـنْطَفِي ذَا الوَقِيدْ
اے رسولوں کے سردار! اس ادنیٰ ترین بندے کی فریاد رسی فرمائیے
میرے دل کے محبوب کے وصال سے یہ (فراق کی) آگ بجھ جائے گی
قَـدْ يَـجْـمَـعُ اللهُ مِـنْ بَعْدِ الأَيَـاسِ البَعيدْ
وَكَيْفَ آيِسْ وَهُـوْ قَـادِرْ عَـلَـى مَـا يُرِيـدْ
اللہ طویل اور دور دراز کی مایوسی کے بعد بھی وصال کرا سکتا ہے
اور میں بھلا کیوں مایوس ہوں جبکہ وہ جو چاہے اس پر قادر ہے؟
نَـذَرْتُ شَافْعَلْ إذَا شَاهَدْتُ عَيدِيدَ عِيدْ
يَــا وَادِيَ الغِيدِ ذِي مَــا مِثْلُهُمْ قَــطُّ غِيدْ
میں نے نذر مانی ہے کہ جب میں عیدید کی عید دیکھوں گا تو کیا کروں گا
اے حسینوں کی وادی! جس جیسی حسین وادیاں پہلے کبھی نہ تھیں
قُـولُـوا لَـهُـمْ: مَـا تَـرِقُّوا لِلغَرِيبِ الوَحِيدْ
مَـهْـلاً مِـنَ البُعْدِ مَهْلاً مَـا عَـلَـى ذَا مَزِيدْ
ان سے کہو: کیا تم اس تنہا پردیسی پر رحم نہ کرو گے؟
بس کرو اس دوری سے، بس! کہ اب مزید سہنے کی تاب نہیں
وَلَا بَـلـي قَــطّْ شَوْقِي غَـيـرَ دَائِـمْ جَدِيدْ
لِعَيْدَرُوسِ الـمَـعَـالِـي ثُــمَّ سَعْدِ السَّعِيدْ
میرا شوق کبھی ماند نہیں پڑتا، بلکہ وہ ہمیشہ دائمی اور نیا رہتا ہے
بلند مرتبت عیدروس کے لیے، اور نہایت خوش بخت سعد کے لیے
كَـمْ دَمَّـرُوا لِـي أَعَـادِي رُبَّ ظَـالِـمْ عَنِيدْ
وَأَنَا بِهِم إِنْ قَصَرْ جَهْدِي فِي النَّاسِ جِيدْ
انہوں نے میرے کتنے ہی دشمنوں اور سرکش ظالموں کو میرے لیے مٹا دیا
اور ان کے طفیل، اگرچہ میری اپنی کوشش کم ہے، میں لوگوں میں معزز ہوں
وَكُـلُّ عَـامٍ يَـقُـولُــوا هَــانْ وَأَنــا أَزِيــدْ
بِـعَـونِ رَبِّـي وَأَخْـتِـمْ بِـالـوَلِـيِّ الـحَمِيدْ
ہر سال وہ کہتے ہیں کہ وہ (فیض) گھٹ گیا، مگر میں تو بڑھتا ہی جاتا ہوں
اپنے رب کی مدد سے، اور میں اپنی بات کا اختتام اس ولیِ حمید کے ذکر پر کرتا ہوں
صَـلُّـوا عَـلَـى أَحْـمَـدْ وَمَـنْ صَلَّـى عَـلَـى أَحْـمَـدْ يُـفِـيـدْ
احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر درود بھیجو، کہ جو بھی احمد پر درود بھیجتا ہے وہ نفع پاتا ہے