سَكَنَ الْفُؤَادَ فَعِشْ هَنِيئاً يَا جَسَدْ
The Beloved Dwells Within the Heart, So Live in Bliss
Ur
مَدَدْ مَدَدْ مَدَدْ مَدَدْ
مَدَدْ يَا رَسُولَ الله
مدد مدد مدد مدد
مدد یا رسول اللہ
سَكَنَ الْفُؤَادَ فَعِشْ هَنِيئاً يَا جَسَدْ
هَذَا النَّعِيمُ هُوَ الْمُقِيمُ إِلَى الْأَبَدْ
دل میں محبوب بس گئے، اب اے بدن خوش رہ
یہ وہ دائمی نعمت ہے جو ابد تک رہے گی
أَصْبَحْتُ فِي كَنَفِ الْحَبِيبِ وَمَنْ يَكُنْ
جَارَ الْحَبِيبِ فَعَيْشُهُ الْعَيْشُ الرَّغَدْ
اب میں محبوب کی پناہ میں ہوں اور جو کوئی
محبوب کا پڑوسی بن جائے، اس کی زندگی سراسر خوشحالی ہے
عِشْ فِي أَمَانِ اللَّهِ تَحْتَ لِوَائِهِ
لَا خَوْفَ فِي هَذَا الْجَنَابِ وَلَا نَكَدْ
اللہ کی امان میں ان کے پرچم تلے زندگی گزارو
اس بارگاہِ عالی میں نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی رنج و ملال
لَا تَخْشَ مِنْ فَقْرٍ فَعِنْدَكَ بَيْتُ مَنْ
كُلُّ الْمُنَى لَكَ مِنْ أَيَادِيهِ مَدَدْ
فقر و فاقہ سے نہ ڈر کہ تو اس کے در پر ہے
جن کی جود و عطا سے تیری ہر مراد کو مدد ملتی ہے
رَبُّ الْجَمَالِ وَمُرْسِلُ الْجَدْوَى
هُوَ فِي الْمَحَاسِنِ كُلِّهَا فَرْدٌ أَحَدْ
وہ حسن و جمال کے مالک اور سخاوت فرمانے والے ہیں
وہ تمام خوبیوں اور محاسن میں یکتا و بے مثال ہیں
قُطْبُ النُّهَى غَوْثُ الْعَوَالِمِ كُلِّهَا
أَعْلَى مَنْ سَادَ أَحْمَدُ مَنْ حَمَدْ
عقل و خرد کے مرکز اور تمام جہانوں کے فریاد رس ہیں
وہ احمد ہیں، سب سے بلند مرتبہ اور سب سے زیادہ حمد کرنے والے
رُوحُ الْوُجُودِ حَيَاةُ مَنْ هُوَ وَاجِدُ
لَوْلَاهُ مَا تَمَّ الْوُجُودُ لِمَنْ وَجَدْ
آپ روحِ کائنات اور ہر ذی روح کی زندگی ہیں
اگر آپ نہ ہوتے تو کسی صاحبِ وجود کا وجود مکمل نہ ہوتا
عِيسَى وَآدَمُ وَالصُّدُورُ جَمِيعُهُمْ
هُمْ أَعْيُنٌ هُوَ نُورُهَا لَمَّا وَرَدْ
عیسیٰ و آدم اور تمام جلیل القدر ہستیاں
سب آنکھوں کی مانند ہیں اور آپ ان آنکھوں کا نور ہیں
لَوْ أَبْصَرَ الشَّيْطَانُ طَلْعَةَ نُورِهِ
فِي وَجْهِ آدَمَ كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَجَدْ
اگر شیطان حضرتِ آدم کے چہرہِ انور میں
آپ کے نور کی تجلی دیکھ لیتا تو وہ سب سے پہلے سجدہ کرتا
أَوْ لَوْ رَأَى النُّمْرُودُ نُورَ جَمَالِهِ
عَبَدَ الْجَلِيلَ مَعَ الْخَلِيلِ وَلَا عَنَدْ
یا اگر نمرود آپ کے حسن و جمال کا نور دیکھ لیتا
تو وہ سرکشی نہ کرتا اور خلیل اللہ کے ساتھ ربِ جلیل کی عبادت کرتا
لَكِنَّ جَمَالَ اللَّهِ جَلَّ فَلَا يُرَى
إِلَّا بِتَخْصِيصٍ مِنَ اللَّهِ الصَّمَدْ
مگر اللہ کا جمال نہایت بلند ہے جو نظر نہیں آتا
سوائے اللہ صمد کی خاص عطا اور خاص فضل کے
فَأَبْشِرْ بِمَنْ سَكَنَ الْجَوَانِحَ مِنْكَ يَا
مَنْ قَدْ مَلَأْتَ مِنَ الْمُنَى عَيْناً وَيَدْ
پس اس ہستی کے ملنے پر خوشی مناؤ جو تمہارے دل میں بس گئے ہیں
اے وہ شخص جس کی آنکھیں اور ہاتھ مرادوں سے بھر گئے ہیں
عَيْنُ الْوَفَا مَعْنَى الصَّفَا سِرُّ النَّدَى
نُورُ الْهُدَى وَرُوحُ النُّهَى جَسَدُ الرُّشْدْ
آپ سراپا وفا، صفا کی حقیقت اور سخاوت کا راز ہیں
آپ نورِ ہدایت، عقل کی روح اور رشد و ہدایت کا مجسمہ ہیں
ثُمَّ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ الْمُرْتَضَى
الْجَامِعِ الْمَخْصُوصِ مَا دَامَ الْأَبَدْ
پھر درود و سلام ہو نبیِ مرتضیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر
جو کمالات کے جامع اور مخصوصِ خدا ہیں، جب تک ابد باقی ہے