وِشْلُونْ أنَامَ الَّليْلْ وِشْلُونْ أَنَامُهْ
حَبِيبِي مُحَّمَدْ جَوْهَرْ كَلاَمُه
کیسے سوؤں رات کو، کیسے آرام کروں؟
میرا محبوب محمد، اس کے الفاظ جواہر ہیں
سَفِّنْ بِاللَّه يَا سَفَّانْ دِيرِ السَّفِينَة
أنْوَارْ أَبَى القَاسِمْ لَاحِتْ عَلَيْنَا
اللہ کے نام پر جہاز چلاؤ، اے ملاح، کشتی کو سنبھالو
ابو القاسم کی روشنی ہم پر چمک اٹھی ہے
يَارَافِقَ العُرْبَانْ وَاشْرَبْ لَبَنْهِنْ
كُلِّ الصَحَابَة نْجُومْ طَهَ قَمَرْهِنْ
عربوں کے ساتھ رہو اور ان کا دودھ پیو
تمام صحابہ ستارے ہیں، طہٰ ان کا چاند ہے
يَا طَيْرَ الطَّايِرْ فُوقْ أَبْيَضْ يَا بُو جْنَاح
سَلِّمْ عَلَى أبى الزهراء قُلُّهْ العُمُرْ رَاح
اے اوپر اڑتا ہوا پرندہ، سفید پروں والا
زہرہ کے والد کو سلام کہو اور کہو کہ عقلیں چلی گئیں
يَا طَيْرَ الطَّايِرْ فُوقْ أَخْضَرْ يَا بُـو رِيشْ
سَلِّمْ عَلَى طَهَ قُلُّهْ دَرَاوِيشْ
اے اوپر اڑتا ہوا پرندہ، سبز پروں والا
طہٰ کو سلام کہو اور کہو کہ ہم درویش بن گئے
مَا رِيدَ اَمُوتَ الْيَوْمْ كَفْنِي عَبَاتِي
دِزُّو عَلَى طَهَ يِحْضَرْ وَفَاتِي
آج مرنا نہیں چاہتا، میری چادر ہی میرا کفن ہے
طہٰ کو بھیجو تاکہ وہ میری موت پر حاضر ہو