يَا جَدَّ السُّلَالَةْ
اے عالی نسب کے جد
Ur
يَا جَدَّ السُّلَالَةْ
يَا مَجْمَعَ كَمَالَهْ
اے عالی نسب کے جدِ امجد
اے تمام کمالات کے مجموعے
يَا جَمِيلًا فِي جَمَالِهْ
جَمَالُكَ لَا مِثَالَهْ
اے اپنے حسن میں سراپا جمیل
آپ کے جمال کی کوئی مثال نہیں
فَائِقٌ لِلْبُدُورِ
مُقْتَبَسٌ بِنُورِهِ
آپ تمام چاندوں سے فائق و بلند ہیں
جو اپنا نور آپ ہی کی ضیا سے مستعار لیتے ہیں
مُشْتَاقٌ أَنَ أَزُورَهُ
عِنْدَهُ الدَّمْعُ سَالَا
میں ان کی زیارت کا سراپا شوق ہوں
جن کی یاد میں آنسو رواں ہو گئے
رُؤْيَاكَ النَّبِيَّ
سَعَادَةٌ هَنِيَّةْ
اے نبی ﷺ، آپ کا دیدار پانا
ایک دلنشین اور مبارک سعادت ہے
بِرِيحِهَا الْعِطْرِيَّةْ
فِي النَّوْمِ أَوْ خَيَالَا
اس کی معطر ہواؤں کی خوشبو کے ساتھ
خواہ وہ نیند میں ہو یا عالمِ خیال میں
جِئْتُ لِلرِّحَابِ
وَاقِفٌ بِبَابِه
میں ان کے مقدس آستانے پر حاضر ہوا
اور ان کے درِ اقدس پر کھڑا ہوں
بِمَجْمَعَ الْأَحْبَابِ
حَطَطْتُ الرِّحَالَ
محبوبوں کی اس محفل اور مقامِ اجتماع میں
میں نے اپنا رختِ سفر اتار دیا
أَسَدٌ فَوْقَ نَارَا
حَيْدَرْ الْكَرَّارَ
معرکوں کی آگ میں ایک شیر کی مانند
یعنی حضرت حیدرِ کرار
كَمْ بِالسَّيْفِ صَالَ
كَمْ رَعَدَ الْجِبَالَ
کتنی ہی بار آپ نے تلوار سے جوہر دکھائے
اور کتنی ہی بار پہاڑوں کو لرزا دیا
أَهْلِي وَقَبُولِي
بِالزَّهْرَا الْبَتُولِ
میری امید اور میری مقبولیت
حضرت زہرا بتول کے وسیلے سے ہے
يَا بِنْتَ الرَّسُولِ
بَلِّغِي الْآمَالَ
اے رسولِ خدا ﷺ کی لختِ جگر
میری تمناؤں کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیں
بِزَيْنَبَ الْمُشَيرَةْ
وَنَفِيسَةَ الْكَبِيرَةْ
سیدہ زینب مشیرہ کے واسطے سے
اور سیدہ نفیسہ کبیرہ کے صدقے
وَعَائِشَةَ الْمُنِيرَةْ
أَنْتُمْ خَيْرُ آلَ
اور روشن سیرت سیدہ عائشہ کے طفیل
آپ سب بہترین خاندان و آل ہیں
أِنَنَا نَوَيْنَا
عِنْدَهُ أَتَيْنَا
بے شک ہم نے یہی عزم و نیت کی
اور اب ہم ان کی بارگاہ میں آ پہنچے ہیں
يَا جَدَّ الْحَسَنَيْنِ
إِنَّ الشَّوْقُ طَالَ
اے حسنین کریمین کے جدِ امجد
اب تو شوقِ ملاقات بہت طول پکڑ گیا ہے
قَدَّمْنَا الْهَدِيَّةَ
لِلْعِتْرَةِ الزَّكِيَّةِ
ہم نے اپنا نذرانہ اور ہدیہ پیش کیا ہے
نبی ﷺ کی پاکیزہ عترت کے حضور
صَلَاةٌ عَلَى النَّبِيِّ
هُوَ بَاهِي الْجَمَالِ
نبی مکرم ﷺ پر درود و سلام ہو
وہی درخشندہ حسن و جمال کے مالک ہیں