أَيَا مُرِيْدَ الله
Ur
الله الله الله الله سَيَّدِي الله
الله الله الله اَلْعَظِيْمُ الله
اللہ اللہ اللہ اللہ میرے مولا اللہ
اللہ اللہ اللہ عظمت والا اللہ
أَيَا مُرِيْدَ اللهُ نُعِيدْ لَكْ قَوْلِ اصْغَهْ
إِذَا تَفْهَمْ قَوْلِي بِهِ تَصِلْ لِلّهْ
اے طالبِ مولیٰ! میں تجھ سے ایک بات کہتا ہوں اسے غور سے سن
اگر تو میری بات سمجھ جائے تو اس کے ذریعے اللہ تک پہنچ جائے گا
عَلَيْكَ يَا مُرِيدْ بِخَمْرَةِ التَّوْحِيدُه
وَإِنْ تَبْغِ الْمَزِيدْ فَالْغَيْرُ عَنْكَ انْسَهْ
اے مرید! تجھ پر توحید کی شراب لازم ہے
اور اگر تو مزید کا طالب ہے تو غیر اللہ کو فراموش کر دے
فَاذْكُرْ الاسْمَ الْأَعْظَمْ وَاطْوِ الْكَوْنَ تَغْنَمْ
وَخُضْ بَحْرَ الْقِدَمْ فَذَاكَ بَحْرُ الله
پس اسمِ اعظم کا ذکر کر اور کائنات کو لپیٹ کر مقصد پا لے
اور سمندرِ قدم میں غوطہ لگا کہ وہی اللہ کا سمندر ہے
وَخُضْ بَحْرَ الْأَنْوَارْ وَالْمَعْنَى وَالْأَسَرَارْ
وَافْنِ هَذِي الدِّيَارْ يَبْلُغْ قَلْبُكْ مُنَاهْ
انوار، معانی اور اسرار کے سمندر میں غوطہ زن ہو جا
اور اس عالمِ فانی کو مٹا دے، تیرا دل اپنی مراد پا لے گا
وَلْتَفْنَ في الْمَعْبُودْ تَذُوقْ مَعْنَى الشُّهُودُ
إِذْ لَيْسَ ذَا الْوُجُودْ إِلَّا مِنْ نُورِ الله
تجھے معبود میں فنا ہونا چاہیے تاکہ مشاہدہ کی حقیقت چکھ سکے
کیونکہ یہ سارا وجود اللہ کے نور کے سوا کچھ نہیں ہے
الْمُلْكُ وَالْمَلَكُوتْ كَذَاكَ الْجَبَرُوتْ
فَكُلُهَا نُعُوتْ وَالذَّاتُ مُسَمَّاهُ
عالمِ ملک اور ملکوت، اور ویسے ہی عالمِ جبروت
یہ سب تو محض نشانیاں ہیں اور ذات ہی اصل مسمّٰی ہے
فَغِبْ عَنِ الصِّفَاتْ وَافْنَ في ذَاتِ الذَّاتْ
هَذِي تَلَوُّنَاتْ مَصِيرُهَا لِلِهُ
پس تو صفات سے غائب ہو کر ذاتِ باری تعالیٰ میں فنا ہو جا
یہ سب رنگینیاں بدلنے والی ہیں جن کی بازگشت اللہ کی طرف ہے
إِلَيْهِ الْمُنْتَهَى وَمِنْهُ الْمُبْتَدَا
وَالْآنَ قَدْ بَدَا وَالْكَوْنُ فِي حُلَاهْ
اسی کی طرف انتہا ہے اور اسی سے ہر چیز کی ابتدا ہے
اور وہ اب ظاہر ہو چکا ہے جبکہ کائنات اس کے حسن کے لباس میں ہے
لَهُ الْكَوْنُ مِرْآتْ وَمَظْهَرُ الصِّفَاتْ
مُحَمَّدْ نُورُ الذَّاتْ عَلَيْهِ صَلَّى الله
کائنات اس کے لیے آئینہ اور صفات کا مظہر ہے
محمدﷺ نورِ ذات ہیں، ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام ہو
الْعَلَاوِيْ يَقُوْلْ قَوْلًا مِنْهُ مَقْبُولُ
تَهِيْمُ بِهِ الْعُقُولْ تَغِيبْ فِي ذَاتِ الله
العَلَوی ایسی بات کہتا ہے جو مقبولِ بارگاہ ہے
عقلیں جس میں دنگ رہ جائیں اور ذاتِ الٰہی میں گم ہو جائیں