يَا خَلِقَا الْأَكْوَانْ بِا لْلُّطْفِ عَامِلْنِي
اے خالقِ اکوان، مجھ سے لطف کا معاملہ فرما۔
Ur
Ur
يَا خَلِقَا الْأَكْوَانْ
بِا لْلُّطْفِ عَامِلْنِي
اے خالقِ کائنات
مجھ سے لطف و کرم کا معاملہ فرما
مَا لِيْ عَمَلْ يُرْضِيْكْ
أَنْتَ الْغَنِيْ عَنِّي
میرا کوئی عمل ایسا نہیں جو تجھے پسند آئے
اور تو تو مجھ سے بے نیاز ہے
يَا وَاهِبَ الْإِحْسَانْ
تَقْوَاكَ أَلْهِمْنِي
اے احسان عطا کرنے والے
مجھے اپنے تقویٰ کا الہام فرما
قَدْ خَابَ الَّذِيْ يَعْصِيْكْ
سُبْحَانَكَ ارْحَمْنِي
وہ شخص نامراد ہوا جس نے تیری نافرمانی کی
تو پاک ہے، مجھ پر رحم فرما
يَا خَلِقَا الْأَكْوَانْ
بِا لْلُّطْفِ عَامِلْنِي
اے خالقِ کائنات
مجھ سے لطف و کرم کا معاملہ فرما
مَا لِيْ عَمَلْ يُرْضِيْكْ
أَنْتَ الْغَنِيْ عَنِّي
میرا کوئی عمل ایسا نہیں جو تجھے پسند آئے
اور تو تو مجھ سے بے نیاز ہے
بِمَنْ حَوَى الأَنْوَارْ
وَالْفَضْلَ وَالأَسْرَارْ
اس ہستی کے طفیل جو تمام انوار کے جامع ہیں
اور فضائل و اسرار کے بھی
أَحْمَدْ ضِيَا الأَبْصَارْ
مَنْ مَدْحُهُ فَنِِّي
احمد (ﷺ) جو آنکھوں کا نور ہیں
جن کی مدح سرائی میرا فن ہے
يَا خَلِقَا الْأَكْوَانْ
بِا لْلُّطْفِ عَامِلْنِي
اے خالقِ کائنات
مجھ سے لطف و کرم کا معاملہ فرما
مَا لِيْ عَمَلْ يُرْضِيْكْ
أَنْتَ الْغَنِيْ عَنِّي
میرا کوئی عمل ایسا نہیں جو تجھے پسند آئے
اور تو تو مجھ سے بے نیاز ہے
يَا رَبُّ يَا رَحْمَنُ
صَلِّ يَا ذَا المَنِّ
اے رب، اے رحمٰن
درود بھیج اے صاحبِ فضل و کرم
عَالْرُّوحِ فِي الأَبْدَانْ
وَالْنُّورِ فِي العَيْنِ
اس روح پر جو اجسام کے اندر ہے
اور اس نور پر جو آنکھوں میں ہے
يَا خَلِقَا الْأَكْوَانْ
بِا لْلُّطْفِ عَامِلْنِي
اے خالقِ کائنات
مجھ سے لطف و کرم کا معاملہ فرما
مَا لِيْ عَمَلْ يُرْضِيْكْ
أَنْتَ الْغَنِيْ عَنِّي
میرا کوئی عمل ایسا نہیں جو تجھے پسند آئے
اور تو تو مجھ سے بے نیاز ہے
مَا شَعْشَعَتْ أَنْوَارْ
مِنْ رَوْضَةِ الْمُخْتَارْ
جب تک انوار ضیا پاش رہیں
روضہءِ رسولِ مختار (ﷺ) سے
وَغَرَّدَتْ أَطْيَارْ
تَشْدُو عَلَى الغُصْنِ
اور جب تک پرندے چہچہاتے رہیں
شاخوں پر نغمہ سرائی کرتے ہوئے