يَمِّمْ نَحْوَ الْمَدِينَةْ تَرَى الْأَنْوَارْ
مدینہ کا رخ کرو، تم انوار دیکھو گے
Ur
Ur
يَمِّمْ نَحْوَ الْمَدِينَةْ تَرَى الْأَنْوَارْ
وَاقْصُدْ حِمَى نَبِيِّنَا طَهَ الْمُخْتَارْ
مدینہ کی جانب رخ کرو تو تم انوار دیکھو گے
اور ہمارے نبی طہٰ مختار کی پناہ گاہ کا قصد کرو
مُحَمَّدْ يَا أَبَا الْزَّهْرَا نَرْجُو نَظْرَةْ
أَرَى الْقُبَّةَ الْخَضْرَا لَيْلًا وَنَهَارْ
اے محمد، اے ابا زہرا، ہمیں ایک نگاہِ کرم کی امید ہے
میں شب و روز سبز گنبد کا مشاہدہ کرتا ہوں
مُحَمَّدْ يَا أَبَا الْقَاسِمْ إِنِّي هَائِمْ
عَسَى تَقْبَلْنِيْ خَادِمْ أَنَا وَالْحُضَّارْ
اے محمد، اے ابا القاسم، میں آپ کا والہ و شیدا ہوں
شاید کہ آپ مجھے اور تمام حاضرین کو بطورِ خادم قبول فرما لیں
فَامْدُدْ يَدَكْ وَالْبَاعَا وَالْذِّرَاعَا
وَاطْلُبْ مِنْهُ الْشَّفَاعَةْ وَقْتَ الْأَسْحَارْ
پس اپنے ہاتھ اور اپنے بازو (طلب میں) دراز کرو
اور سحر کے اوقات میں ان سے شفاعت کی التجا کرو
وَقِفْ حَوْلَ الْضَّرِيحِ يَا فَصِيحِ
وَاغْسِلْ قَلْبَ الْجَرِيحِ مِنَ الْأَْكْدَارْ
اور اے فصیحِ بیاں، مزارِ اقدس کے گرد ٹھہر جاؤ
اور اپنے زخمی دل کو تمام غموں اور کدورتوں سے دھو ڈالو