مَا لِي سِوَاكْ هَمْ وَأَنْتَ تَعْلَمْ
تیرے سوا میرا کوئی غم نہیں اور تو جانتا ہے
Ur
مَا لِي سِوَاكْ هَمْ وَأَنْتَ تَعْلَمْ
فَالْقُرْبُ مَغْنَمْ وَالْبُعْدُ مَغْرَمْ
تیرے سوا میرا کوئی غم نہیں اور تو خوب جانتا ہے
پس قربت غنیمت ہے اور دوری سراسر خسارہ ہے
خُذْنِي إِلَيْكَ بَيْنَ يَدَيْكَ
حُسِبْتُ عَلَيْكَ فِي كُلِّ مَا أَعْلَمْ
مجھے اپنی طرف، اپنی ہی حضوری میں لے لے
کہ میں اپنے ہر معاملے میں تجھ ہی سے منسوب ہوں
أَنْتَ مُرَادِي فَكُنْ لِيْ هَادِي
فَالْقَلْبُ صَادِي فَزِلْ لِيْ ذَا الْهَمْ
تو ہی میرا مقصود ہے، پس میرا رہنما بن جا
میرا دل پیاسا ہے، پس میرا یہ غم دور کر دے
مَنْ ذَا يَكُنْ لِي إِنْ لَمْ تَكُنْ لِي
تَرَى لِذُلِّي وَأَنْتَ أَرْحَمْ
میرا کون ہوگا اگر تو میرا نہ ہوا
تو میری عاجزی دیکھ رہا ہے اور تو ہی سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے
كَمْ ذَا أُنَادِي يَا خَيْرَ هَادِي
يَكْفِي بُعَادِي فَالْجُودُ قَدْ عَمْ
اے بہترین رہنما! میں کب سے تجھے پکار رہا ہوں
اب یہ جدائی کافی ہے، تیری سخاوت تو سب پر محیط ہے
نُورُ الْوِصَالِ مَهْرُهُ غَالِي
سِوَاكَ مَا لِي جُدْ وَتَكَرَّمْ
وصال کے نور کا مہر بہت گراں ہے
تیرے سوا میرا کوئی نہیں، پس جود و کرم فرما
قُرْبِي وَبُعْدِي سِيَّانِ عِنْدِي
لِأَنَّ رُشْدِي فِيمَا تَقَسِّمْ
میرے لیے قرب اور دوری دونوں ہی برابر ہیں
کیونکہ میری بھلائی اسی میں ہے جو تو نے میرے لیے مقدر کیا ہے
فَاجْعَلْ هِبَاتِي رُوحَ الْحَيَاةِ
حَبِيبْ ذَاتِي طه الْمُعَلِّمْ
پس میری عطا کو روحِ حیات بنا دے
یعنی میری ہستی کے محبوب طٰہٰ معلم (ﷺ)
تَعْلَمْ لِقَصْدِي حِبِّي وَوُدِّي
فَكُنْ لِلْكُرْدِي فِي كُلِّ مَغْنَمْ
تو میرے ارادے، میری محبت اور میری الفت کو جانتا ہے
پس ہر کامیابی میں (اس) کُردی کا یاور و مددگار رہ
صَلَاةُ رَبِّي لِحَبِيبِ قَلْبِي
طه الْمُرَبِّي عَلَيْهِ سَلَّمْ
میرے رب کا درود ہو میرے دل کے محبوب پر
یعنی طٰہٰ مربی پر، ان پر سلامتی ہو