قُلْ لِلَّذِي قَدْ لَامَنِي
Tell the one who has blamed me,
Ur
قُلْ لِلَّذِي قَدْ لَامَنِي
دَعْنِي وَشَأْنِي يَا عَذُولْ
اس سے کہہ دو جس نے مجھے ملامت کی ہے
اے ملامت گر، مجھے میرے حال پر چھوڑ دے
لَوْ كُنْتَ تَدْرِي مَا جَرَى
مَا كُنْتَ تَنْهَى يَا جَهُولْ
کاش تم جانتے کہ مجھ پر کیا گزری ہے
تو اے نادان، تم مجھے منع نہ کرتے
أَمَا تَرَى جِسْمِيَ السَّقِيمَ
قَدْ شَفَّهُ دَاءُ النُّحُولْ
کیا تم میرا یہ ناتواں جسم نہیں دیکھ رہے
جسے لاغری کی بیماری نے پگھلا دیا ہے
قُلْ لِي بِمَنْ هَذَا الْعَنَا
وَذَا التَّصَابِي وَالذُّهُولْ
مجھے بتاؤ یہ دکھ کس کے لیے ہے
اور یہ عشق کی تڑپ اور بے خودی کیسی؟
اللَّهُ حَسْبِي وَكَفَى
قُلْ مَا تَشَأْ يَا ذَا الْفُضُولْ
اللہ میرے لیے کافی ہے اور وہی بس ہے
اے فضول گو، تو جو چاہے کہتا رہ
يَا سَاكِنِينَ سَرَائِرِي
عِنْدِي لَكُمْ صَفْوُ الْوِدَادْ
اے میرے باطن کے مکینوں
میرے دل میں تمہارے لیے خالص ترین محبت ہے
مَلَّكْتُكُمْ يَا سَادَتِي
زِمَامَ أَمْرِي وَالْقِيَادْ
اے میرے آقاؤں، میں نے تمہیں مالک بنا دیا ہے
اپنے معاملے کی باگ ڈور اور اختیار کا
لَا تُهْمِلُوا مَنْ قَدْ غَدَا
يَسْمُو بِكُمْ بَيْنَ الْعِبَادْ
اس شخص کو فراموش نہ کرنا جو بن گیا ہے
تمہارے صدقے بندوں میں بلند مرتبت
وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ مُقِيمٌ
يَرْجُو السَّعَادَةَ وَالْقَبُولْ
وہ تمہارے در پر کھڑا ہے اور وہیں مقیم ہے
وہ خوش بختی اور شرفِ قبولیت کا امیدوار ہے
اللَّهُ حَسْبِي وَكَفَى
قُلْ مَا تَشَأْ يَا ذَا الْفُضُولْ
اللہ میرے لیے کافی ہے اور وہی بس ہے
اے فضول گو، تو جو چاہے کہتا رہ
هَبَّتْ نُسَيْمَاتُ الْوِصَالْ
مِنْ جَانِبِ الْقُدْسِ الْعَلِيّْ
وصال کی ٹھنڈی ہوائیں چل پڑی ہیں
بارگاہِ قدسِ الٰہی کی جانب سے
وَاسْتَغْرَقَتْ أَنْوَارُهَا
عَوَالِمَ الْقَلْبِ الْخَلِيّْ
اور ان کے انوار نے ڈبو دیا ہے
اس دل کے جہان کو جو بالکل خالی تھا
عَمَّا سِوَى مَعْبُودِهِ
الْوَاحِدِ الْحَقِّ الْوَلِيّْ
اپنے معبودِ برحق کے سوا ہر چیز سے
جو یکتا ہے، حق ہے اور بہترین کارساز ہے
وَكُوشِفَتْ أَسْرَارُهُ
وَحَلَّ فِي بُرْجِ الْوُصُولْ
اور اس پر مخفی بھید کھول دیے گئے
اور وہ وصال کے بلند مقام پر فائز ہوا
اللَّهُ حَسْبِي وَكَفَى
قُلْ مَا تَشَأْ يَا ذَا الْفُضُولْ
اللہ میرے لیے کافی ہے اور وہی بس ہے
اے فضول گو، تو جو چاہے کہتا رہ
بَاتَ الْمُحِبُّ مَعَ الْحَبِيبْ
وَالْعَاذِلُ الْغَافِلُ بَعِيدْ
محب نے رات اپنے محبوب کے سنگ گزاری
جبکہ غافل ملامت گر کہیں دور رہ گیا
لَمْ يَدْرِ مَا شَأْنُ الْهَوَى
بَيْنَ الْمَوَالِي وَالْعَبِيدْ
وہ نہیں جانتا کہ عشق کا کیا عالم ہوتا ہے
آقاؤں اور غلاموں کے درمیان
يَا وَيْحَهُ مَاذَا عَلَيْهِ
لَوْ كَانَ يَعْرِفُ لِلسَّعِيدْ
ہائے افسوس اس پر، اس کا کیا بگڑ جاتا
اگر وہ اس خوش بخت کے بارے میں جان لیتا
مَكَانَهُ مِنْ رَبِّهِ
وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا يَقُولْ
کہ اس کا اپنے رب کے ہاں کیا مقام ہے
اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کہہ رہا ہے
اللَّهُ حَسْبِي وَكَفَى
قُلْ مَا تَشَأْ يَا ذَا الْفُضُولْ
اللہ میرے لیے کافی ہے اور وہی بس ہے
اے فضول گو، تو جو چاہے کہتا رہ
مَاذَا يَقُولُ الْمُنْكِرُونَ
فِيمَنْ لَهُ قَلْبٌ سَلِيمْ
منکرین اس شخص کے بارے میں کیا کہیں گے
جسے اللہ نے قلبِ سلیم عطا کیا ہے
مُحِبٌّ لِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ
وَقَصْدُهُ الْمَوْلَى الْكَرِيمْ
وہ تمام مسلمانوں سے محبت رکھتا ہے
اور اس کا مقصود صرف مولائے کریم ہے
وَيَعْتَقِدْ فِي نَفْسِهِ
بِأَنَّهُ عَبْدٌ ذَمِيمْ
اور وہ اپنے نفس کے بارے میں یہی سمجھتا ہے
کہ وہ ایک عیب دار اور حقیر بندہ ہے
لَوْلَا عِنَايَةُ رَبِّهِ
لَكَانَ بَطَّالاً ضَلُولْ
اگر اس کے رب کی خاص عنایت نہ ہوتی
تو وہ ضرور گمراہ اور بےکار ہو جاتا
اللَّهُ حَسْبِي وَكَفَى
قُلْ مَا تَشَأْ يَا ذَا الْفُضُولْ
اللہ میرے لیے کافی ہے اور وہی بس ہے
اے فضول گو، تو جو چاہے کہتا رہ