يَا وَاهِبَ الْإِنْسَانِ أَسْبَابَ الْهُدَى
اے انسان کو ہدایت کے اسباب عطا کرنے والے
Ur
يَا وَاهِبَ الْإِنْسَانِ أَسْبَابَ الْهُدَى
يَا مَنْ بِحَمْدِ الْعَالَمِينَ تَفَرَّدَا
اے انسان کو ہدایت کے اسباب عطا کرنے والے
اے وہ جو جہانوں کی حمد و ثنا میں یکتا ہے
لِي عِنْدَ بَابِكَ يَا إِلَهِي دَعْوَةٌ
فِيهَا رَجَاءُ الْعُمْرِ جَاءَ مُجَسَّدَا
اے میرے معبود! تیرے در پر میری ایک التجا ہے
جس میں زندگی بھر کی امید مجسم ہو کر آئی ہے
أَنْتَ الَّذِي مَا خَابَ عِنْدَكَ سَائِلٌ
أَيَكُونُ بَابُكَ دُونَ سُؤْلِي مُؤْصَدَا
تو وہ ہے جس کے ہاں کوئی سائل کبھی محروم نہیں رہا
کیا میری التجا کے سامنے تیرا در مقفل ہو سکتا ہے؟
فَبِفَضْلِكَ اللَّهُمَّ عِشْتُ مُوَحِّدا
أَيُرَدُّ عِنْدَكَ مَنْ أَتَاكَ مُوَحِّدَا
اے اللہ! تیرے فضل سے میں نے موحد ہو کر زندگی گزاری
کیا وہ تیرے در سے رد کیا جا سکتا ہے جو موحد بن کر آیا ہو؟
سُؤْلِي كَذَاتِكَ وَاحِدٌ فَبِحَقِّهَا
لَوْ لَحْظَةً دَعْنِي أُشَاهِدَ أَحْمَدَا
میرا سوال تیری ذات کی مانند ایک ہی ہے، پس اسی وحدت کے واسطے
مجھے ایک لمحے کے لیے ہی سہی، احمد (ﷺ) کا دیدار کرا دے