يا مَنْ يَرَى أدمُعِي تَنْهَلُّ كالدِّيَمِ
O You Who See My Tears Pouring Down Like Ceaseless Rain
Ur
Ur
يا مَنْ يَرَى أدمُعِي تَنْهَلُّ كالدِّيَمِ
مِنْ مُقْلَتيَّ وجِسْمِي بَادِيَ الْسَّقَمِ
اے وہ جو میرے آنسوؤں کو پیہم بارش کی طرح بہتا ہوا دیکھتا ہے
میری آنکھوں سے رواں ہیں جبکہ میرا جسم بیماری سے نڈھال ہے
لا تَعجَبنَّ وإنْ أصْبَحْتُ كالرِّمَمِ
رِيمٌ على القَاعِ بينَ البَانِ والْعَلَمِ
تو ہرگز تعجب نہ کر اگرچہ میں بوسیدہ ہڈیوں کی مانند ہو گیا ہوں
اس ہرن کی وجہ سے جو میدان میں درختِ بان اور پہاڑ کے درمیان ہے
أَحَلَّ سَفْكَ دَمِي في الأَشْهُرِ الْحُرُمِ
واعْجَبْ لأَمْرِي فإنّي لَمْ أكُنْ أَبَدَا
اس نے حرمت والے مہینوں میں میرا خون بہانا حلال کر لیا
اور میرے معاملے پر تعجب کر کیونکہ میں پہلے کبھی ایسا نہ تھا
أَخشَى الشَّدَائِدَ لوْ مَدَّتْ إلَيَّ يَدَا
لَكِنَّمَا الْحُبُّ أَصْمَانِي فَقُلْتُ سُدَى
کہ سختیوں سے ڈرتا خواہ وہ میری طرف اپنا ہاتھ بڑھا دیتیں
لیکن عشق نے مجھے بہرا کر دیا اور میری باتیں بے سود ٹھہریں
رَمَى القَضَاءُ بِعَينَيْ جُؤذُرٍ أَسَدَا
يا سَاكِنَ اَلْقَاعِ أدرِك سَاكِنَ الأَجَمِ
قضا نے ایک ہرن کی آنکھوں کے ذریعے شیر کا شکار کر لیا
اے میدان کے رہنے والے! اس بیشہ زار کے بسنے والے کی خبر لے
صَالَ الْحَبِيبُ بِنَبْلِ الطَّرْفِ ذِي الْعُدَدِ
عَلَى فُؤَادِي وَخَـلاَّني بِلاَ رَشَدِ
محبوب نے اپنے ترکش کے بے پناہ تیرِ نظر سے حملہ کیا
میرے دل پر، اور مجھے راہِ ہدایت سے محروم کر دیا
وَإِذْ رَمَانِي وَأَوْهَى سَهْمُهُ جَلَدِي
جَحَدْتُها وَكَتَمْتُ الْسَّهْمَ فِي كَبِدِي
اور جب اس نے مجھے نشانہ بنایا اور اس کے تیر نے میرے صبر کو پست کر دیا
میں نے زخم سے انکار کیا اور اس تیر کو اپنے جگر میں چھپا لیا
جُرْحُ الأَحِبَّةِ عِنْـدِي غَيْرُ ذِي أَلَمِ
إذا بَدا قَمَرِي لا يَظْهَرُ القَمَرُ
محبوب کے لگائے ہوئے زخم میرے نزدیک تکلیف دہ نہیں ہیں
جب میرا چاند نمودار ہوتا ہے تو آسمانی چاند بھی چھپ جاتا ہے
قَدْ طَالَ في حُبِّهِ التَّفْكيرُ والْسَهَرُ
رُوحِي لَهُ ودَمِي والْسَّمْعُ والْبَصَرُ
اس کی محبت میں میرا غور و فکر اور شب بیداری طویل ہو گئی ہے
میری روح، میرا لہو، میری سماعت اور میری بصارت سب اسی کی ہے
يا لائِمِي في هَواهُ والْهَوَى قَدَرُ
لو شَفَّكَ الْوَجْدُ لَمْ تَعْذِلْ ولمْ تَلُمِ
اے اس کے عشق میں مجھے ملامت کرنے والے! عشق تو ایک تقدیر ہے
اگر یہ وجد تجھے گھلا دیتا تو تو نہ مجھے جھڑکتا اور نہ ہی ملامت کرتا