طَابَ لِي خَلْعُ عِذَارِي
مجھ کو میری بے لِجامی بھا گئی
Ur
طَابَ لِي خَلْعُ عِذَارِي
فِي هَوَى الْبَدْرِ الْتَّمَامْ
مجھے اپنی بے خودی بھلی لگتی ہے
اس ماہِ کامل کی الفت میں
بِافْتِقَارِي وَانْكِسَارِي
أَرْتَجِيْ نَيْلَ الْمَرَامْ
اپنی محتاجی اور اپنی شکستہ حالی کے وسیلے سے
میں اپنی مراد پا لینے کی امید رکھتا ہوں
يَا عَذُوْلِي لَا تَلُمْنِي
مَا عَلَى الْعَاشِقُ مَلَامْ
اے میرے ملامت گر، مجھے ملامت نہ کر
کہ عاشق پر کوئی ملامت روا نہیں ہوتی
اُدْنُ مِنِّي وَارْوِ عَنِّيْ
أَنَا فِي الْعِشْقِ إِمَامْ
میرے قریب آ جاؤ اور مجھ سے روایت کرو
کہ میں عشق کی اقلیم میں امام ہوں
خَمْرَةُ الْأَحْبَابِ تُجْلَ
هِيَ حِلٌّ لَا حَرَامْ
محبوبوں کی مئے (روحانی شراب) پیش کی جاتی ہے
جو حلال ہے، حرام نہیں
مِنْ عُيُونِ الْعِيْنِ تُمْلَى
صَانَهَا الْبَرُّ الْسَّلَامْ
چشمِ حور کے چشموں سے یہ جام بھرے جاتے ہیں
جن کی حفاظت سراپا خیر اور سلامتی والے رب نے کی
يَا أَخَا الْأَشْوَاقِ يَمِّمْ
سَيِّدَ الْرُّسْلِ الْكِرَامْ
اے ذوق و شوق کے مسافر، اپنا رخ کر لے
ان معزز رسولوں کے سردار کی جانب
وَاغْنَمِ الْذِّكْرَ وَزَمْزِمْ
بِصَلَاةٍ مَعْ سَلَامْ
اس ذکر کو غنیمت جان اور نغمہ سرا ہو
درود اور سلام کے ترانوں کے ساتھ
لِحَبِيْبِ الله أَحْمَدْ
كُلَّمَا جَنَّ الْظَّلَامْ
اللہ کے حبیب حضرت احمدِ مجتبیٰ ﷺ پر
جب کبھی بھی رات کی تاریکی چھا جائے
كُلُّ مَنْ وَالَاهُ يَسْعَدْ
وَيَنَالْ حُسْنَ الْخِتَامْ
جو بھی ان سے محبت و ولا رکھے وہ بخت ور ہے
اور اسے بہترین انجام (حسنِ خاتمہ) نصیب ہوتا ہے