ْيَاجَمَالُه
Oh, How Beautiful He Is!
Ur
آه يَا جَمَالُه يَا جَمَالُهْ
سِيدْنَا النَّبِى يَا جَمَالُهْ
آہ کیا ہی جمال ہے ان کا، کیا ہی جمال ہے!
آہ کیا ہی جمال ہے ان کا، کیا ہی جمال ہے!
سِيدْنَا النَّبِى يَا جَمَالُهْ
ہمارے سردار نبی ﷺ، کیا ہی جمال ہے ان کا!
كَحِيلُ الطَّرْفِ حَبِيبِي لَوْ تَرَاهُ
ضَحُوكُ السِّنِّ لِلْعَاشِقِ رَمَاهُ
سرمئی آنکھوں والے ہیں میرے محبوب، کاش تم انہیں دیکھ پاتے!
وہ تبسم فرما کر عاشقوں کو اپنے عشق میں وارفتہ کر دیتے ہیں
بَهِيُّ الطَّلْعَةْ فَالْمَوْلَى اصْطَفَاهُ
وَكُلُّ الْخَلْقِ أَنَارَ بِنُورِ طه
روشن چہرے والے ہیں جنہیں مولیٰ نے خود چن لیا
اور تمام مخلوق نورِ طہٰ سے منور ہے
وَلَا ظِلُّ لَهُ بَلْ كَانَ نُوْرَا
تَنَالَ الشَّمْسُ مِنْهُ هُوَ الْبُدُوْرَ
ان کا کوئی سایہ نہ تھا بلکہ وہ تو سراپا نور تھے
سورج ان سے روشنی پاتا ہے اور وہ خود ماہِ کامل ہیں
وَلَمْ يَكُنِ الْهُدَى لَوْلَاهُ ظُهُوْرَا
وَ كُلُّ الْكَوْنِ أَنَارَ بِنُوْرِ طَــــــهَ
اگر وہ نہ ہوتے تو ہدایت کبھی ظاہر نہ ہوتی
اور تمام کائنات نورِ طہٰ سے روشن ہے
وَكَفُّ الْمُصْطَفَى كَالْوَرْدِ نَادِى
وَعِطْرُهَا يَبْقَى إِذَا مَسَّتْ أَيَادِى
مصطفیٰ ﷺ کی ہتھیلی تر و تازہ گلاب کی مانند ہے
اور اس کی خوشبو ان ہاتھوں میں مہکتی رہتی ہے جو اسے چھو لیں
وَعَمَّ نَوَالُهَا كُلَّ الْعِبَادِ
حَبِيبُ اللهِ يَا خَيْرَ الْبَرَايَا
ان کی سخاوت تمام بندوں کے لیے عام ہے
اے اللہ کے محبوب، اے تمام مخلوق میں سب سے بہتر!
وَرِيقُ الْمُصْطَفَى يَشْفِي الْعَلِيلَ
وَعَيْنُ قَتَادَةَ خُذْهَا دَلِيلًا
مصطفیٰ ﷺ کا لعابِ دہن بیماروں کو شفا دیتا ہے
اس پر حضرت قتادہ کی آنکھ کو بطورِ دلیل دیکھ لو
تَفَلَ فِي الْبِئْرِ أَضْحَتْ سَلْسَبِيلًا
وَصَارَ لِصَحْبِهِ شَهْدًا مُدَامًا
آپ ﷺ نے کنویں میں لعاب ڈالا تو وہ سلسبیل بن گیا
اور اپنے صحابہ کے لیے وہ ہمیشہ بہنے والا شہد بن گیا