لِغَيْرِ جَمَالِكُمْ نَظَرِي حَرَامُ
آپ کے جمال کے سوا میری نظر حرام ہے
Ur
لِغَيْرِ جَمَالِكُمْ نَظَرِي حَرَامُ
وَغَيْرُ كَلَامُكُمْ عِنْدِي كِلَامُ
تمہارے جمال کے سوا میری نظر (کسی پر) حرام ہے
اور تمہارے کلام کے سوا میرے نزدیک کوئی کلام نہیں
وَعُمْرُ الْنَّسْرِ مِنْكُمْ بَعْضُ يَوْمٍ
وَسَاعَةُ غَيْرِكُمْ عَامٌ فَعَامُ
تمہارے ساتھ گزری طویل عمر بھی دن کا ایک حصہ ہے
اور غیر کی ایک گھڑی برسوں پر محیط ہے
وَصَبْرِي عَنْكُمُ شَيْءٌ مُحَالٌ
وَمَا لِي قَاتِلٌ إِلَّا الْفِطَامُ
تم سے دوری پر میرا صبر کرنا محال ہے
اور تمہارے فراق کے سوا میرا کوئی قاتل نہیں
إِذَا عَايَنْتُكُمْ زَالَتْ هُمُومِيْ
وَإِنْ غِبْتُمْ دَنَا مِنِّيْ الْحِمَامُ
جب میں تمہارا مشاہدہ کرتا ہوں تو میرے غم مٹ جاتے ہیں
اور اگر تم اوجھل ہو جاؤ تو موت میرے قریب آ جاتی ہے
أَوَدُّ بِأَنْ أَكُونَ لَكُمْ جَلِيسًا
وَتُنْصَبَ لِي بِرَبْعِكُمُ خِيَامُ
میری تمنا ہے کہ میں تمہارا ہم نشیں بن جاؤں
اور تمہارے ہی آستانے میں میرے خیمے نصب ہوں
فَدَاوُوا بِالْوِصَالِ مَرِيضَ هَجْرٍ
يَهِيمُ بِكُمْ إِذَا سَجَعَ الْحَمَامُ
پس وصال کے ساتھ ہجر کے اس مریض کا علاج کرو
جو کبوتروں کی نغمہ سرائی پر تمہاری یاد میں بے خود ہو جاتا ہے
حَدِيثُ غَرَامِهِ فِيكُمْ قَدِيمٌ
وَمَلْبَسُهُ مِنَ الْحُبِّ الْسِّقَامُ
تمہاری الفت میں اس کے عشق کی داستاں قدیم ہے
اور بیماری و نقاہت ہی اس کا لباسِ محبت ہے
فَأَنْتُمْ فِي الْأُصُولِ أَجَلُّ أَصْلٍ
إِذَا شِئْتُمْ تَحَصَّلَ لِي الْمَرَامُ
تم تمام اصولوں میں سب سے بلند و بالا اصل ہو
اگر تم چاہو تو میری مراد پوری ہو جائے
بِكُمْ صَعْبُ الْأُمُورِ يَعُودُ سَهْلًا
فَبِالْإِحْسَانِ جُودُوا يَا كِرَامُ
تمہارے وسیلے سے مشکل امور آسان ہو جاتے ہیں
اے صاحبانِ کرم! اپنے احسان کے ساتھ سخاوت فرمائیے
وَلَيْسَ سِوَاكُمُ لِلْجُودِ أَهْلًا
فَكَيْفَ نَزِيلُ سُوحِكُمُ يُضَامُ
تمہارے سوا کوئی جود و سخا کا اہل نہیں
پھر تمہارے آستانے کا مہمان کیسے محروم یا پریشان رہ سکتا ہے